تحریک خلافت کے دوران مسلمانوں نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا اور انگریزی اشیاء کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ تاہم یہ تحریک بھی ناکام ہوئی اور ترکی میں خلافت ختم ہو گئی۔ اس ناکامی کے بعد ایک حصہ نے افغانستان کی طرف ہجرت کی جسے ہجرت تحریک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے。
یہ کہانی برصغیر کے مسلمانوں کی اس عظیم جدوجہد کی ہے جو 1857ء کی جنگِ آزادی کی راکھ سے شروع ہوئی اور 1947ء میں ایک آزاد وطن "پاکستان" کی صورت میں مکمل ہوئی۔
آپ کی رائے جان کر ہمیں خوشی ہوگی۔ اسے اپنے دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔
جنگ کی ناکامی کا تمام تر ذمہ دار مسلمانوں کو ٹھہرایا گیا، جس سے وہ سیاسی اور معاشی طور پر پیچھے رہ گئے۔
انگریزوں کی طرف سے جنگ کے بعد آئین سازی کی پیشکشیں کی گئیں، لیکن قائد اعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کے مطالبے سے کم کچھ قبول نہیں ہوگا۔
12۔ حکومتِ ہند ایکٹ 1935ء اور کانگریسی وزارتیں (1937ء - 1939ء)
ہندوؤں کے شدید دباؤ کے آگے جھکتے ہوئے انگریز حکومت نے 1911ء میں تقسیمِ بنگال کو منسوخ کر دیا، جس سے مسلمانوں کو شدید مایوسی ہوئی۔ 5۔ شملہ وفد (1906ء)
1857 کی جنگ آزادی: پہلی بڑی مزاحمت 10 مئی 1857 کو میرٹھ میں برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت کی آگ بھڑکی، جو پورے ہندوستان میں پھیل گئی۔ اس جنگ کا مقصد ہندوستان کو نوآبادیاتی نظام سے آزاد کرانا تھا۔ اس میں ہندو اور مسلمان دونوں برابر کے شریک تھے۔ علمائے کرام نے اس بغاوت کے دوران مسلمانوں کی قومی و مذہبی شناخت کے لیے قیادت فراہم کی اور جہاد کے حوالے سے فتوے جاری کیے۔
یہ مضمون کا ایک مختصر، جامع اور مفید خلاصہ پیش کرتا ہے۔ یہ ایک ایسے عظیم سفر کی عکاسی کرتا ہے جس میں مسلمانوں نے تعلیم، سیاست اور قربانیوں کے ذریعے اپنا الگ وطن حاصل کیا۔ امید ہے کہ یہ نوٹس آپ کے لیے انتہائی مددگار ثابت ہوں گے۔
مغل سلطنت کا باقاعدہ خاتمہ ہوا اور ہندوستان براہِ راست برطانوی تاج کے قبضے میں آ گیا۔ مسلمانوں کی حالت:
یہ مضمون تاریخِ پاکستان (1857-1947) کے طالب علموں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں برطانوی راج کے آغاز سے لے کر قیامِ پاکستان تک کے تمام اہم موڑ، سیاسی تحریکیں اور شخصیات شامل ہیں۔ 1۔ جنگِ آزادی 1857ء اور اس کے اثرات
1857 سے پہلے مسلم معاشرے کی پستی مغل سلطنت کے زوال کے بعد برصغیر کے مسلمان سیاسی، معاشی اور معاشرتی طور پر زوال کا شکار ہو چکے تھے۔ 1707 میں اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد ان کے نااہل جانشین وسیع و عریض سلطنت کو سنبھال نہ سکے اور رفتہ رفتہ علاقے انگریزوں کے قبضے میں چلے گئے۔ سات سمندر پار سے آنے والی انگریز قوم تجار کے روپ میں آئی اور مسلمانوں سے اقتدار، اختیار اور حکمرانی کا حق چھین لیا۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان بحیثیت قوم زوال پذیر تھے اور اسمان سے آنے والی ہر بلا کا شکار ہو رہے تھے۔